جار[1]
معنی
١ - پڑوسی، ہمسایہ۔ "روایت کی ابن ابی شیبہ نے مصنف میں شریح سے کہ خلیط برحق ہے شفیع سے اور شفیع جار سے۔" ( ١٨٢٧ء، نورالہدایہ، ٤٠:٤ ) ١ - ساجھی، بیوپار میں شریک؛ شوہر؛ وہ جسے کسی کے ظلم سے پناہ دی جائے۔ (فرہنگ آفند راج) "بفضل و عزت اس بات سے پاک ہے کہ جس کا تو جار ہو وہ ہلاک ہو جائے۔" ( ١٨٨٨ء، تشنیف الاسماع، ١٣٦ )
اشتقاق
اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصل معنی میں بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧١٣ء میں "جنگ نامہ حیدر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پڑوسی، ہمسایہ۔ "روایت کی ابن ابی شیبہ نے مصنف میں شریح سے کہ خلیط برحق ہے شفیع سے اور شفیع جار سے۔" ( ١٨٢٧ء، نورالہدایہ، ٤٠:٤ ) ١ - ساجھی، بیوپار میں شریک؛ شوہر؛ وہ جسے کسی کے ظلم سے پناہ دی جائے۔ (فرہنگ آفند راج) "بفضل و عزت اس بات سے پاک ہے کہ جس کا تو جار ہو وہ ہلاک ہو جائے۔" ( ١٨٨٨ء، تشنیف الاسماع، ١٣٦ )